ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مودی کی ریلیوں کا عوام پر اثر نہیں پڑے گا:سدارامیا

مودی کی ریلیوں کا عوام پر اثر نہیں پڑے گا:سدارامیا

Tue, 01 May 2018 22:06:26    S.O. News Service

کلبرگی یکم؍ مئی(ایس او نیوز؍ یواین آئی)کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی انتخابی ریلیوں پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے تاہم ان ریلیوں کا ریاست کے عوام پر اثر نہیں پڑے گا۔انہوں نے کلبرگی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوریت ہے ۔ وزیراعظم کے یہاںآنے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔تاہم ان کی آمد کا کوئی بھی اثر نہیں پڑے گا۔بی جے پی حکومت پر نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بی جے پی نے لوک آیویکتہ اور لوک پال کی تقرری کے مسئلہ کو نظر انداز کیا ۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن کے بارے میں بی جے پی کو بات کرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے ۔ گزشتہ چار سال میں مرکزی حکومت نے لوک پال کی تقرری نہیں کی۔جب مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے لوک آیوکتہ کی بھی کبھی تقرری نہیں کی تھی۔کرناٹک میں بی جے پی کے وزارت اعلیٰ کے امیدوار ایڈی یورپا پر نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ان کے خلاف معاملات ہیں اور ان کو جیل جانا پڑے گا۔بی جے پی ، سی بی آئی کی جانچ کی بات کرتی ہے تاہم وہ کچھ بھی نہیں کرتی ،سی بی آئی اس کے تحت ہے ۔ لنگایت کے مسئلہ پر سدارامیا نے کہا کہ لنگایت ان کیلئے نہیں بلکہ بی جے پی کے لئے انتخابی موضوع ہے ۔

کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدا رامیا نے اقتدار میں قائم رہنے کا یقین ظاہر کرتے ہوئے آج کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں رائے دہندگان کانگریس کو پھر سے منتخب کریں گے اور وہ ریاست کے وزیراعلیٰ رہیں گے ۔ کلبرگی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سدارامیا نے کہاکہ میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے اور میری خدمت پر کوئی سیاہ دھبہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اپنے پانچ برس کے دور اقتدار میں میں نے بدعنوانی سے پاک حکومت دی ہے ۔ مسٹر سدارامیا نے کہاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو بدعنوانی کے موضوع پر بولنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے کیونکہ اس نے خود ہی بدعنوان لوگوں کو ٹکٹ دیا ہوا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ مسٹرایڈی یورپا کو محترمہ سونیا گاندھی اور مسٹر راہل گاندھی کے بارے میں بات کرنے کا کوئی اخلاقی نہیں ہے ۔ جنتادل (سیکولر) کے سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڈا کے بیان کے سلسلہ میں مسٹر سدارامیا نے کہاکہ مسٹر دیوے گوڈا کے بیان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔خیال رہے کہ مسٹر دیوے گوڑا نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر ان کے بیٹے ایچ ڈی کمارسوامی بی جے پی سے ہاتھ ملاتے ہیں تو وہ انہیں بے دخل کردیں گے۔ دوسری جانب انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے میسور میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کرناٹک میں بی جے پی کی لہر نہیں ہے بلکہ بی جے پی کا طوفان ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ایڈی یورپا ، کرناٹک کے عوام کی امید ہیں اور وہ ریاست کے اگلے وزیراعلیٰ ہوں گے ۔انہوں نے کہاکہ ہم سے سوال کرنے سے پہلے راہل گاندھی کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ 2005میں منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ تمام مواضعات کو 2009 تک بجلی فراہم کی جائے گی ۔یہی بات سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے کی تھی ۔ان دونوں نے مزدوروں کا مذاق اڑایا تھا۔ انہوں نے راہل گاندھی کو چیلنج کیا کہ وہ بغیر کوئی کاغذ پڑھے کرناٹک حکومت کے کارناموں پر 15منٹ تک بات کریں ، راہل ہندی میں بات کرسکتے ہیں ،انگریزی آپ کی مادری زبان ہے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ کرناٹک میں کوئی لااینڈآرڈر نہیں ہے ۔لوک آیویکتہ محفوظ نہیں ہے تو پھر کس طرح عام آدمی محفوظ رہ سکتا ہے ۔اگر این ڈی اے حکومت کسانوں کی زندگی تبدیل کرنے کے لئے کام کر رہی ہے تومرکزی حکومت کے بیشتر اقدامات کا کرناٹک کے کسانوں کو بھی فائدہ ہونا چاہئے ۔

مسٹر مودی نے کہا کہ کانگریس اٹکانے ، بھٹکانے اور بدعنوانی کی سیاست کرتی ہے ۔ اس پارٹی کو ترقی کی سیاست کرنی نہیں آتی لہٰذا گزشتہ 70سال میں ملک کی ترقی نامکمل ہے ۔ انہوں نے کرناٹک کو ترقی کے راستے پر آگے بڑھنے اور کرناٹک کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچانے کے لئے بی جے پی کو ووٹ دینے کی اپیل کی اور کہا کہ ترقی کی سیاست صرف بی جے پی کرتی ہے لہٰذا بی جے پی کو ریاست کااقتدار سونپیں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ملک اور کرناٹک کی ترقی کا بیڑا اٹھایا ہے ۔ اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے باقی بچے 18000گاؤں میں بجلی پہنچانے کا بیڑا اٹھایا تھا اور آزادی کے بعد پہلی بار ملک کے آخری گاؤں میں بجلی پہنچانے کا کام ان کی حکومت نے پورا کر دیا ہے ۔ یہ کام 28 اپریل کو منی پور میں ہوا ہے اور 28؍اپریل 2018 کی تاریخ، تاریخ کے باب میں درج ہوگئی ہے۔ اب ان کا ہدف ہر گھر تک بجلی پہنچانا ہے اور یہ کام بھی ان کی حکومت وقت پر مکمل کر لے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مسٹر راہل گاندھی’’مدار‘‘ہیں اس لئے کامدار کی پرواہ نہیں کرتے ۔ وہ جوش میں اقدار کی خلاف ورزی تو کر جاتے ہیں لیکن کامداروں کیلئے ان کے دل میں جگہ نہیں ہے ۔ کامداروں کی محنت اور ان کی زبان نسل پرستی کی سیاست سے صدر بنے مسٹر گاندھی کی سمجھ نہیں آتی۔انتخابی ریلی میں بھیڑ کو دیکھتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ اب تک ان کویہی سنائی دے رہا تھا کہ کرناٹک میں بی جے پی کی ہوا چل رہی ہے لیکن یہاں آکر انہیں لگ گیا ہے کہ ہوا نہیں بلکہ آندھی چل رہی ہے ۔ وزیر اعظم کرناٹک میں اگلے آٹھ دن تک مسلسل انتخابی مہم چلائیں گے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس پر نسل پرستی کی سیاست کرنے اور ملک کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج کانگریس صدر راہل گاندھی پر جم کرحملہ کیا اور کہا کہ وہ نامدار ہیں اور انہیں کامداروں کی محنت پر بھروسہ نہیں ہے ۔ وہ نسل پرستی کی سیاست سے آکر نئے نئے کانگریس صدر بنے ہیں لہٰذا صدر بننے کے بعد انتہائی جوش میں عزت و وقارسے کھلواڑ کررہے ہیں۔


Share: